صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » ٹیکسٹائل انجینئرنگ

ٹیکسٹائل انجینئرنگ


بڑے ملوں میں خود کار مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے حالات بہت بہتر ہیں۔ روئی کے ریشے، گرد و غبار سے آلودہ فضا کے بجائے اب یہاں صاف ماحول ہوتا ہے۔ شیل لیس مشینوں کی وجہ سے ویونگ ملوں میں شور کی سطح بھی کم ہوگئی ہے۔

تنخواہیں

فیصل آباد کالج سے ٹیکسٹائل میں بی ایس سی کی سندحاصل کرنے والے نوجوانوں کو ابتدا میں 5 سے 6 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ انھیں ڈپٹی اسپننگ ماسٹر یا ڈپٹی ویونگ ماسٹر کے عہدے پر رکھا جاتا ہے۔ چار پانچ سال کے تجربے کے بعد ایک اچھے کارکن کی تنخواہ 25سے 30ہزار روپے تک ہوسکتی ہے۔
ڈپلوما ہولڈر امیدواروں کو ابتدا میں ڈھائی سے تین ہزار روپے ملتے ہیں، لیکن پانچ سال کے تجربے کے بعد اچھے امیدوار 20 ہزار روپے تک تنخواہ پانے لگتے ہیں۔ دو اور ڈھائی سالہ سرٹیفکیٹ کورس مکمل کرنے والے سپروائزر کے طور پر ملازم رکھے جاتے ہیں اور تین چار سال کے تجربے کے بعد 5 سے 8 ہزار روپے تک تنخواہ حاصل کرسکتے ہیں۔
امکانات
ٹیکسٹائل کی صنعت اس وقت پاکستان میں سب سے تیز رفتار صنعت ہے۔ ہر سال اوسطاً ۵۰ نئےنے قائم کی ہے۔ یونی ورسٹی میںٹیکسٹائل مل قائم ہو رہے ہیں اور اس وقت ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعت کے جو تعلیمی ادارے ہیں وہ اس صنعتی شعبے کے لیے تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر حکومت کی موجودہ پالیسی برقرار رہی تو تعلیم یافتہ ہنر مندوں کے لیے اس صنعت میں نہایت روشن امکان رہیں گے۔
ذاتی کاروبار کے مواقع
ٹیکسٹائل کے ویونگ شعبے میں تربیت یافتہ امیدوار کے پاس ذاتی سرمایہ ہو تو وہ ۸ سے ۱۲ لوم مشینوں کا ویونگ یونٹ لگا سکتا ہے۔ اسی طرح تولیہ سازی اور ہوزری کا چھوٹا یونٹ بھی لگایا جاسکتا ہے۔چھوٹے پیمانے پر پروسیسنگ کا کام بھی شروع کیا جاسکتا ہے لیکن ذاتی کاروبار کے لیے سب سے بہتر مواقع گارمنٹس کی صنعت میں ہیں۔

متعلقہ پیشے

ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، گارمنٹس اور سلائی کے دھاگے کی تیاری اس شعبے کے متعلقہ پیشے ہیں۔ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کی تعلیم و تربیت نیشنل کالج آف آرٹس لاہور، اور فائن آرٹس اور کمرشل آرٹس کے دیگر کالجوں/اسکولوں میںدی جاتی ہے۔ گارمنٹس کی باقاعدہ تربیت سوئیڈش پاکستان  انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے علاوہ دیگر ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز میں اور خواتین پولی ٹیکنیکس میں دی جاتی ہے۔
متعلقہ اداروں کے پتے
1۔نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ، فیصل آباد
2۔گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ، کراچی
3۔گورنمنٹکالج آف ٹیکنالوجی، ملتان
4۔گورنمنٹ وولن سینٹر، جھنگ
5۔گورنمنٹ ویونگ اینڈ فنشنگ انسٹیٹیوٹ شاہدرہ، لاہور
6۔سوئیڈش پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لانڈھی، کراچی
7۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن مولوی تمیز الدین خان روڈ، کراچی
8۔ٹیکسٹائل یونی ورسٹی آف پاکستان بی۔ ۷۴، بلاک6، پی ای سی ایچ ایس کراچی