صفحہ اول » تجارت

تجارت

Zindagi ke Rastey- Commerceکاروباری اور تجارتی حساب کتاب اور نظم و نسق سے متعلق جو پیشے اہم تصور کیے جاتے ہیں، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ (سی اے) کا پیشہ ان میں سے ایک ہے۔ اکاؤنٹینٹس کا کام بالعموم روپے پیسے کے معاملوں سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ لوگ مالی امور میں پیشہ ورانہ مشورے دیتے ہیں، اور مالیات کے انتظامی فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اکاؤنٹینٹس کے تین بڑے شعبے ہیں جن میں نجی اداروں کے امور، صنعت و تجارت اور سرکاری اداروں کے معاملات شامل ہیں۔
چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس کا کام بالعموم نجی اداروں کے حساب سے متعلق ہوتا ہے۔ وہ اپنے موء کلوں کو اکاؤنٹنگ کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ بیش تر چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کسی اکاؤنٹینسی کی فرم سے منسلک ہو کر نجی شعبے کے کاروباری اداروں، کلبوں، تنظیموں، قومیائی گئی صنعتوں اور افراد کے حسابات تیار کرنے، اور ان کی آڈیٹنگ کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی اکثریت دیگر صنعتوں میں بھی کام کرتی ہے جن کا ذکر اس مضمون میں آگے کیا گیا ہے۔
آڈیٹنگ (تنقیحِ حسابات ) کا مطلب یہ ہے کہ کسی موء کل (کمپنی، ادارے یا فرد) کے حسابات کا تجزیہ کیا جائے اور ان حسابات کے دُرست ہونے کی تصدیق کی جائے جس سے موء کل کے مالی امور کی بالکل صحیح تصویر سامنے آجائے۔ اس کا م کو انجام دینے میں بعض اوقات مالی معاملات کے کنٹرول سسٹم کی چھان بین کرنی ہوتی ہے اور ادارے کے عملے اور انتظامیہ کے ارکان کے انٹرویوز بھی کرنے ہوتے ہیں۔ کاروباری اور انتظامی شعبے میں روز افزوں ترقی کی وجہ سے جو پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں، ان کے پیشِ نظر چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس کی مشاورتی ذمہ داریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ادارے اور کمپنیاں اپنے انتظامی اور مالیمعاملات کے بارے میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس کی ماہرانہ رائے زیادہ طلب کرنے لگے ہیں۔ اس صورتِ حال میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس لاگت اور کاروباری طریقوں کی چھان بین کرتے ہیں، تاکہ مالیاتی اطلاعات حاصل کرکے، ان کی روشنی میں انتظامیہ کو ایسے مشورے دے سکیں جن سے ادارے کی کارکردگی اور پیداواریت میں اضافہ ہو اور منافعے کی شرح بڑھے۔
چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس کے فرائض میں مذکورہ بالاامور کے علاوہ انکم ٹیکس کے معاملات اور سرمایہ کاری کے امکانات کے بارے میں مشورے دینا بھی شامل ہے علاوہ ازیں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس اپنے موء کل کی جانب سے منتظم، ٹرسٹی یا لیکیویڈیٹر کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
پاکستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس کے پیشے کا آغاز 1961ء سے ہوا جب حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس قائم کیا۔ اس سے پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس کی جگہ رجسرڈ اکاؤنٹینٹس یہ فرائض انجام دیتے تھے۔
جو نوجوان طلبہ و طالبات سی اے کو بہ طور پیشہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ بات خاصی دلچسپی کی ہے کہ اس پیشے کو اپنانے کے لیے نہ غیر معمولی ذہانت کی ضرورت ہے اور نہ ہی لامحدود وسائل کی۔ ہر وہ فرد جو پر عزم ہو، صاف سوچ کا حامل ہو، اپنے آپ کو منظم کرسکتا ہو، اعتدال پسند ہو اور مسلسل جدوجہد کرسکتا ہو وہ اس پیشے میں نہایت آسانی سے کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ اس پیشے کے بارے میں ایک عام تصور یہ ہے کہ اس کا امتحان کامیاب کرنا نہایت مشکل ہے اور بہت کم امیدواروں کو کامیاب کیا جاتا ہے، یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس میں ناکامی کی وجہ اوپر بیان کی گئی خوبیوں کا نہ ہونا یا کالج کی تعلیم کا کم تر معیار اور انگریزی کی کم واقفیت ہوسکتی ہے۔