صفحہ اول » تجارت » اکاﺅنٹینٹ

اکاﺅنٹینٹ


کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ

حالیہ تجارتی ترقی نے زندگی کے ہر شعبے کو وسعت دی ہے۔ اس سے کاروباری اداروں کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور مختلف شعبوں کے آپس میں گھل مل جانے کے نتیجے میں ایسے نت نئے شعبہ جات بھی وجود میں آئے ہیں جہاں ایک فرد کے ذمے مختلف النوع امور کی انجام دہی ہوتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی نئے منصوبے کے قابلِ عمل ہونے، انتظام و انصرام کو چلانے، وسائل کی نشان دہی کرنے، پیدوار کو قائم رکھنے اور دوسرے متعدد کاموں کی منصوبہ بندی کا بوجھ ایک ہی شخص کے کاندھوں پر آن پڑتا ہے۔ ایسے حالات کا خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس فرد کو ان تمام متنوع شعبہ جات پر دسترس حاصل ہوتا کہ وہ اپنے ادارے کے مفاد میں بہتر نتائج کی ضمانت فراہم کرسکے۔
کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ ایسا ہی ایک شعبہ ہے جس سے تعلق رکھنے والے افراد ان پیچیدہ مواقع کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک نیا شعبہ ہے جس کے قیام کو کم و بیش نصف صدی کا عرصہ ہواہے۔ البتہ اس کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔

آج کے دور میں جو چند پیشے ”یقینی روزگار“ بہترین مراعات اور بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں ”کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ“ ان میں سے ایک ہے، لیکن جو نوجوان طلبہ و طالبات تعلیم کے بعد ایک اچھی ملازمت اور شان دار کیریئر کی ضمانت چاہتے ہیں انھیں اس پیشے میں داخل ہونے کے بعد اس کے تعلیمی مراحل کو کامیابی سے عبور کرنے کے لیے، ان تھک محنت کے ساتھ اپنی ذہنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا ہوتا ہے۔ پانچ چھ برسوں کی اس مشقت کا صلہ یوں ملتا ہے کہ مستقبل ان کے لیے نہ صرف محفوظ ہو جاتا ہے بلکہ ان کی ذہنی ترقی اور مادی خوش حالی ان کی آئندہ نسل کے لیے بھی روشنکاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کیا ہے؟
کبھی آپ نے اپنے قلم کو غور سے دیکھاہے؟ یہ کس طرح تیار ہوا؟ اس میں کتنا خام مال لگا؟ کتنے کارکنوں اور انجینئروں نے اس کے بنانے میں حصہ لیا؟ اس کے بنانے میں کتنی مشینوں کی کارگزاری شامل رہی؟ پھر یہ کہ اس قلم کی قیمت بیس روپے ہے تو کیوں ہے؟ اس کی ایک مخصوص ساخت ہے، لیکن دوسری کمپنی کا تیار کر دہ قلم جو تھوڑا سا مختلف ہے، پندرہ روپے میں کیوں فروخت ہوتا ہے؟ اس قلم پر لاگت کتنی آئی ہوگی؟ اور فروخت پر منافع کتنا ہوگا؟ کیا اس قلم کی قیمت کم نہیں ہوسکتی؟ کمپنی اسے کہاں کہاں فروخت کرکے کتنا منافع کما رہی ہے؟ کیا اس منافعے کو بڑھایا جاسکتا ہے؟ یہ تمام اور اسی نوعیت کے دیگر سوالات کے جوابات تلاش کرنا کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کہلاتا ہے اور جو لوگ یہ کام کرتے ہیں انھیں کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ کہا جاتا ہے۔
تجارت میں مقابلے کے رجحان اورکم یاب وسائل کے تحفظ کی ضرورت میں جوں جوں اضافہ ہو رہا ہے کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس کی مانگ بھی اسی قدر بڑھ رہی ہے۔ اپنی ماہرانہ تربیت اور معلومات کے باعث یہ افراد عوامی اور نجی دونوں طرح کے اداروں کی ایک لازمی ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔
کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ کا کام بالعموم ان قومی اور نجی اداروں میں ہوتا ہے جن کا تعلق کسی صنعت سے ہو۔ وہ اپنے آجروں یا موءکلوں کو کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان کے فرائض میں ادارے کی انتظامیہ کا کنٹرول، آئندہ کی منصوبہ بندی، بجٹ کی تیاری، پیداواری اشیا، مصنوعات یا خدمات کی قیمتوں کی پالیسی سازی اور کمپنی کی کارکردگی و کار گزاری کا جائزہ شامل ہے۔ یہ حضرات نقد رقوم کی آمد پر نظر رکھتے ہیں، نفع و نقصان کے گوشوارے تیار کرتے ہیں، حسابات کی درونِ خانہ تنقیح (انٹرنل آڈٹ) کرتے ہیں اور کمپنی کے حصے داروں کے مالیات کے حسابات تیار کرتے ہیں۔ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ مالیاتی پیش گوئیاں، بجٹ کے جائزے اور مالیاتی اطلاعات اور مشورے فراہم کرتے ہوئے، انتظامی فیصلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
کمپنیز آرڈیننس 1984ءکے اجرا کے بعد سی ایم اے کے کام اور شعبوں کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔
اس شعبے کی مسلسل وسعت پذیری اور یہاں ملنے والے مالی استحکام کو دیکھ کر اب بہت سے افراد اس میدان کا رخ کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں اب بھی نئے افراد کے لیے بے انتہا گنجائش ہے۔

تعارف

کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کی ضروریات پوری کرنے اور اس شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس پاکستان (آئی سی ایم اے پی) 1851ءمیں قائم کیا گیا ہے۔ اپنے میدان میں یہ پاکستان کا واحد اور وسیع ادارہ ہے۔ اس کے مراکز کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ایبٹ آباد فیصل آباد، حیدر آباد، ملتان، اور الخبر (سعودی عرب )میں قائم ہیں۔ ان مراکز پر براہ راست تدریس کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعے بھی کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ الخبر کے مرکز کے ذریعے یہ سہولت سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک تک بھی پھیل چکی ہے۔
پاکستان کے مختلف ادارے مثلاً پی آئی اے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان اور این ڈی ایف سی وغیرہ بھی انسٹی ٹیوٹ سے استفادہ کرتے ہیں اور اپنے افسران کو مختصر المیعاد اور نصاب کی تکمیل کے لیے وقتاً فوقتاً یہاں بھیجتے رہتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ اس وقت پورے پاکستان میں مجموعی طور پر بیس ہزار طالب علموں کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ یہاں سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی تعداد تقریباً بارہ سو ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کم و بیش تمام ہی افراد متعلقہ شعبوں میں بر سرِ روزگار ہیں، جو اس ادارے کی کامیابی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔